حضرت مولانا نعمان احمد جاہدی علیہ الرحمہ
*حضرت* *مولانا* *نعمان* *احمد* *جاہدی* *صابری* *علیہ* *الرحمہ*
*____* *_____* *_____*
*ایک* *گمنام* - - - - *مگر* *مثالی* *داعی* *و* *مبلغ* *اسلام*-----
*بہ* *طور* *تعارف* *ایک* *چشم* *کشا* *تحریر* - - - - - قسط اول
___________________________________________
ناگور راجستھان ، سے متصل قصبہ باسنی، میں ظاہری اسباب و علل مال و دولت کے اعتبار سے مفلس و نادار لیکن، دولت علم سے مالا مال و سرمایہ دار، ایک علمی گھرانہ،
جس کی، گوناگوں خوبیوں، علمی ادبی سرگرمیوں، اور بے لوث اشاعت تبلیغ دین کے کارناموں کی اپنی ایک تاریخی حیثیت ہے، جس میں رب تعالیٰ نے خلوص و لللہیت کے ساتھ اشاعت تبلیغ دین کا کام کرنے والے، تعلیم و تعلم کے علمبردار، بے نظیر داعیان دین حنیف، و مبلغین اسلام، ملت کا درد رکھنے والے صاحبان دل علماء کرام فضلاء عظام اور خطباء اسلام کو نسلاً بعد نسل پیدا فرمایا، جنہوں نے اپنے اپنے دور میں دعوت، ارشاد و تبلیغ کا فریضہ خالصا لوجہ اللہ بحسن و خوبی انجام دیا،______________
*حضرت* *مولانا* *نعمان* *احمد* *جاہدی* *صابری* *علیہ* *الرحمہ* بھی اس سلسلۃ الذہب کی پانچویں پشت میں نور علم کی چمکدار کڑی ہیں، جنکی، غیر معمولی خدمات دینی کا آئینہ ماضی قریب میں اپنے آپ میں منفرد چمک دمک کے ساتھ الگ ہی نظر آتا ہے ________ آپ نے
خطابت کی دنیا میں اپنی تقریر دلپذیر و طرز شعلہ بیانی سے ایک عجیب انقلاب برپا کیا، اور کائنات خطبات میں *شیر* *گجرات* کے خطاب سے اپنی الگ پہچان بناکر چھاپ چھوڑی، تقریری میدان کا یہ شہسوار، جس کے ولولہ انگیز مواعظ حسنہ نے سینکڑوں گمگشتگان کو کفر کے اندھیروں سے نکال کر ایمان کے روشن و منور راستے عطا کئے،،،ابتداءََ راجستھان میں اودے پور، ڈونگر پور راجسمند ، کانکرولی، ،ناتھدوارہ ،دیلواڑہ چتوڑ ،بھیلواڑا ،سوجت ،سروہی ،جودھپور ،پالی ،اور بیکانیر ،کے علاوہ چھوٹے بڑے شہر، قصبوں اور دیہات میں
اس مقرر ذی شان واعظ خوش الحان کے، بے نظیر اور ولولہ انگریز، تقاریر، کی دھوم مچی، اور آپ ہر دل عزیز مقبول خاص و عام مقرر بن کر، ابھرے، بعد ازاں، شہرت کا دائرہ وسیع تر ہونے لگا، اور، بیرون راجستھان، اتراکھنڈ، ایم پی، مہاراشٹر، سوراشٹر، پنجاب، اور گجرات، وغیرہ جیسے صوبوں میں بھی آپ نے، بحمدہ تعالیٰ کائنات وعظ میں اپنی سحر بیانی کے سکے بٹھائے، بلکہ گجرات میں تو سب سے زیادہ آپکے، تقریری دورے ہوتے تھے، حتیٰ کہ، *شیر* *گجرات* کا لقب خصوصیت کے ساتھ آپکی پہچان تھا، چہ جائیکہ اسی گجرات کی سرزمین پر جشن عید میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے ایک جلسے میں لفظ *نور* ساڑھے سات گھنٹے کا خطاب فرما کر ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کیا تھا،جو کہ اپنے آپ میں بے مثال و تاریخ ساز خطاب ہونے کے ساتھ، بہت انوکھا اور نرالہ بھی تھا ___آپ سے قبل *سوامی وویکانند جی نے لفظ سفر*(زیرو) پرلگاتار چھ گھنٹے بول کریہ رکارڈ قائم کیا تھا، لیکن آپنے ساڑھے سات گھنٹے تک ایک لفظ پر گفتگو فرمائی، اور ان کے رکارڈ کو توڑا
رب کریم جل و اعلیٰ نے آپکو زور بیانی کا وہ خصوصی وصف عطا فرمایا تھا، کہ آپکی خطابت کا سحر حلال، سامعین کے سر چڑھ کر بولتا، طرفہ یہ کہ سامعین میں اپنے تو اپنے بیگانے بھی شریک ہوتے، اور عصری علوم و دنیوی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ، بھی، جنکا تعلق، خفیہ محکمہ، سی آئی ڈی، وغیرہ سے ہوتا تھا،اگر چہ یہ لوگ حکومت کی طرف سے، اپنی ڈیوٹی پر مامور ہوتے، لیکن
آپ ،کے کفر سوز اور ایمان افروز بیانات سن کر، آپکے دست حق پرست پر، کفر سے توبہ کر کے دولت ایمان پانے والے خوش نصیب ہوتے، اور ان خوش بخت لوگوں کی تعداد
دو چار پانچ دس نہیں بلکہ تقریباً تین سو ہے،جنہوں نے آپکے دست حق پرست پر کفر سے توبہ کی اور کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوئے،
الحمد للہ ثم الحمد، جن کا ریکارڈ، بہ طور شواہد، کورٹ کے اسٹامپ، مع نوٹیری، میری تحویل میں ہیں، پدر کریم کی ان بے لوث، زبردست خدمات، کے پیش نظر خود کو ان کا بیٹا کہتے ہوئے، بے حد فخر محسوس کے ساتھ انکی بارگاہ میں اس طرح خراج عقیدت پیش کرتا ہوں
_____سن کے مسحور سے ہو جاتے ہیں سننے والے _____
_____اتنا دلکش ترا انداز بیاں ہوتا ہے _____
اللہ کریم جل مجدہ اپنے محبوب برحق مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے صدقے طفیل *میرے* *والد* *کریم* کی مثالی بے لوث دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے اور شایانِ شان اجر عظیم عطا فرمائے *آمین* *بجاہ* *النبی* *الامین* *صلی* *اللہ* *تعالیٰ* *علیہ* *و* *سلم* __________
العبد المذنب __________*عرفان* *احمد* *نعمانی* *جاہدی* باسنی ناگور راجستھان
____________________________
Comments
Post a Comment